Tiens Pakistan

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے؟

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  TiensPk 1 year, 2 months ago.

  • Author
    Posts
  • #10250
     TiensPk 
    Moderator

    اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے؟
    ہم میں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جنہیں اپنے بچپن سے ہی ایک تربیت دی جاتی ہے کہ پڑھ لکھ جاؤ تاکہ اچھی سی نوکری حاصل کر سکو۔ ہم اپنے سکولز میں بھی پڑھنے جاتے ہیں لیکن افسوس ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہم جو پڑھ رہے ہیں اُس کا ہماری زندگی میں کیا عمل دخل ہے اور وہ علم جو ہم حاصل کر رہے ہیں وہ ہماری زندگی کو کیسے بدل سکتا ہے۔ یہ بات مستند طور پر طے ہے کہ جو علم صرف پیسہ کمانے کے لیے حاصل کیا جائے وہ انسان کو کبھی بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ بلکہ ہر انسان کو علم صرف اس لیے حاصل کرنا چاہیے تا کہ اُس علم سے اپنی اور دوسرے افراد کی زندگی کو تبدیل کرنے میں مدد مِلے۔ جیسے بِل گیٹس (مائیکروسافٹ کا مالک)، سِٹیو جابز (ایپل کمپنی کا سی۔ای۔او)، مارک ذکربرگ (فیس بُک کا مالک)، لیس براؤن (دُنیا کے پانچ بڑے سپیکر میں سے ایک) وغیرہ آج کی دُنیا میں منفرد نام ہیں۔
    دورِ حاضر میں اپنی زندگی کو تبدیل کرنے کے لیے ملٹی لیول مارکیٹنگ ایک ایسا روزگار کا پلیٹ فارم ہے جس نے بہت ساری زندگیوں کو یکسر بدل ڈالا۔ ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنیز میں انسان کو اپنی اصل قابلیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن ہم اس کو آج تک اُس انداز میں نہیں لے سکے کیوں کہ ہم نے ایسا ہوتے ہوئے بہت کم دیکھا۔ اور اگر دیکھا بھی تو کچھ چھوٹی کمپنیز کو جو دو تین سال کے اندر ختم ہو جاتی ہیں۔ اور یہ مان لیتے ہیں کہ تمام ملٹی لیول کمپنیز ایسی ہی ہوتی ہیں۔ لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کامیاب زندگی صرف وہی لوگ گُزار رہے ہیں جو ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ اُنہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ اصل میں اپنے مالکوں کو امیر بنانے کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ کی زندگی کیسے گُزرے گی۔ کیا آپ کے پاس اپنی زندگی میں انقلاب لانے کی کوئی منصوبہ بندی موجود ہے۔ تو وہ یقیناً آپ کو ”نہیں“ میں جواب دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے اردگرد لوگوں کو ایسا کرتے ہی دیکھا۔
    ایک دفعہ کا ذِکر ہے۔ سائنسدانوں کے ایک گروہ نے پانچ بندروں کو ایک پِنجرے میں بند کیا۔ اس پِنجرے میں انہوں نے ایک سیڑھی اور اسکے اوپر کچھ کیلے بھی رکھے۔ جب کوئی بندر سیڑھی پر چڑھنا شروع کرتا تو سائنسدان نیچے کھڑے ہوئے بندروں پر ٹھنڈا پانی برسانا شروع کر دیتے۔ اس واقع کے بعد جب بھی کوئی بندر کیلوں کی لالچ میں اوپر جانے کی کوشش کرتا تو نیچے کھڑے ہوئے بندر اسکو سیڑھی پر چڑھنے نہ دیتے اور پھر اُس کو پیٹنا شروع کر دیتے۔ کیلوں کی لالچ کے باوجود یہ سب کچھ دیکھنے اور کرنے کے بعد کوئی بھی بندر سیڑھی پر چڑھنے کی ہمت نہ کرتا۔ سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ایک بندر کو بدل دیا جائے – پہلی چیز جو نئے آنے والے بندر نے کی وہ سیڑھی پر چڑھنا تھا۔ لیکن فوراً ہی اسے دوسرے بندروں نے مارنا شروع کر دیا- کئی دفعہ پٹنے کے بعد نئے آنے والے بندر نے ہمیشہ کے لئے طے کر لیا کہ وہ سیڑھی پر نہیں چڑھے گا حتیٰ کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ سائنسدانوں نے ایک اور بندر تبدیل کیا اور اسکا بھی یہی حشر ہوا -اور مزے کی بات یہ تھی کہ اس سے پہلے تبدیل ہونے والا بندر بھی اسے مارنے والوں میں شامل تھا۔ اسکے بعد تیسرے بندر کو تبدیل کیا گیا اور اسکا بھی یہی حشر ہوا۔ یہاں تک کہ سارے پرانے بندر ایک ایک کر کے بدلے گئے اور سب کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا اب پِنجرے میں صرف نئے بندر رہ گئے جِن پر کبھی سائنسدانوں نے ٹھنڈا پانی نہیں برسایا لیکن پھر بھی وہ سیڑھی پر چڑھنے والے بندر کی پٹائی کرتے۔ اگر یہ ممکن ہوتا کہ بندروں سے پوچھا جائے کہ تم سیڑھی پر چڑھنے والے ہر بندر کو کیوں مارتے ہو یقیناً وہ جواب دیتے کہ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے تو سب کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے
    اُوپر بیان کردہ کہانی سے ہمیں یہ سبق مِلتا ہے۔ کہ ہم اپنے آپ سے سوال کریں کہ ہم اپنی زندگی کیوں ایسے گزار رہے ہیں جیسا کہ وہ گزر رہی ہے؟ ہم وہ کیوں کرنے لگ جاتے ہیں جو دوسروں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس زندگی گزارنے کے لیے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے؟ ہم کیوں اپنی زندگی کا فیصلہ اُن لوگوں کے کہنے پر کر دیتے ہیں جو نہ تو ہماری زندگی کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں مشکل حالات سے نکال سکتے ہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ بھیڑ چال کا شکار ہو جاتے ہیں اور کسی عمل کو کرنے یا نہ کرنے کی صرف یہ دلیل دیتے ہیں کہ سب ہی ایسا کر رہے ہیں ہم نے ایسا کرلیا تو کیا ہوگیا؟
    آپ کا مستقبل آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اپنے لیے ایسا بنانا چاہیے کہ اُس سے بہت سارے افراد کی زندگی میں انقلاب آ سکے۔ اپنے لیے تو کوئی بھی جی سکتا ہے مزہ تو تب ہے جب آپ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کا سبب بن سکیں۔
    اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
    سر آدم ہے، ضمیر کن فکاں ہے زندگی
    ڈاکٹر محمد مدثر اعوان

You must be logged in to reply to this topic.

CONTACT US

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Sending

©2017 Powered by Eziline Software House . Disclaimer : We are not Official Tiens Team or Web . All Rights Reserved

or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account